أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَدْخُلَ الْبَيْتَ، فَأُصَلِّيَ فِيهِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) بِيَدِي، فَأَدْخَلَنِي الْحِجْرَ، فَقَالَ: إِذَا أَرَدْتِ دُخُولَ الْبَيْتِ، فَصَلِّي هَا هُنَا، فَإِنَّمَا هُوَ قِطْعَةٌ مِنْ الْبَيْتِ، وَلَكِنَّ قَوْمَكِ اقْتَصَرُوا حَيْثُ بَنَوْهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں چاہتی تھی کہ میں بیت اللہ کے اندر داخل ہوں، اور اس میں نماز پڑھوں، تو رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ اور مجھے حطیم کے اندر کردیا، پھر فرمایا : جب تم بیت اللہ کے اندر جا کر نماز پڑھنا چاہو تو یہاں آ کر پڑھ لیا کرو، یہ بھی بیت اللہ کا ایک ٹکڑا ہے۔ لیکن تمہاری قوم نے بناتے وقت اتنا کم کر کے بنایا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحج ٩٤ (٢٠٢٨) ، سنن الترمذی/الحج ٤٨ (٨٧٦) ، (تحفة الأشراف : ١٧٩٦١) ، مسند احمد (٦/٦٧، ٩٢- ٩٣) ، سنن الدارمی/المناسک ٤٤ (١٩١١) (حسن، صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ایسا انہوں نے خرچ کی کمی کے باعث کیا تھا۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2912