حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ مِنْ لَفْظِهِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَا أَرَاكَ تَسْتَلِمُ إِلَّا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) يَقُولُ: إِنَّ مَسْحَهُمَا يَحُطَّانِ الْخَطِيئَةَوَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: مَنْ طَافَ سَبْعًا، فَهُوَ كَعِدْلِ رَقَبَةٍ.
عبداللہ بن عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ ایک شخص نے (عبداللہ بن عمر (رض) سے) نے کہا : ابوعبدالرحمٰن (کیا بات ہے) میں آپ کو صرف انہیں دونوں رکنوں کو (یعنی رکن یمانی اور حجر اسود کو) بوسہ لیتے دیکھتا ہوں ؟ تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : ان کے چھونے سے گناہ جھڑتے ہیں اور میں نے آپ کو یہ بھی فرماتے سنا ہے : جس نے سات بار طواف کیا تو یہ ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الحج ١١١ (٩٥٩) ، (تحفة الأشراف : ٧٣١٧) ، مسند احمد (٢/٣، ١١، ٩٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ابوعبدالرحمٰن عبداللہ بن عمر کی کنیت ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2919