أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا طُفْتُ طَوَافَ الْخُرُوجِ فَقَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَطُوفِي عَلَى بَعِيرِكِ مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ، عُرْوَةُ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ أُمِّ سَلَمَةَ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے تو واپسی کا طواف نہیں کیا ہے۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب نماز کھڑی کردی جائے، تو تم اپنے اونٹ پر لوگوں کے پیچھے سے طواف کرلو ۔ عبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : عروہ کا ام سلمہ (رض) سے سماع نہیں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٨١٩٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2926