أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)وَهُوَ يَسْتَنُّ وَطَرَفُ السِّوَاكِ عَلَى لِسَانِهِ وَهُوَ يَقُولُ: عَأْ عَأْ.
ابوموسیٰ اشعری (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ مسواک کر رہے تھے اور مسواک کا سرا آپ ﷺ کی زبان پر تھا، اور آپ : عأعأ کی آواز نکال رہے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٧٣ (٢٤٤) ، صحیح مسلم/الطہارة ١٥ (٢٥٤) ، سنن ابی داود/فیہ ٢٦ (٤٩) ، (تحفة الأشراف : ٩١٢٣) وقد أخرجہ : مسند احمد ٤/٤١٧ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی حلق صاف کر رہے تھے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3