أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ جَاءَ إِلَى الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ يَوْمَ عَرَفَةَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَأَنَا مَعَهُ، فَقَالَ: الرَّوَاحَ، إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ السُّنَّةَ، فَقَالَ: هَذِهِ السَّاعَةَ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ سَالِمٌ: فَقُلْتُ لِلْحَجَّاجِ: إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ أَنْ تُصِيبَ الْيَوْمَ السُّنَّةَ فَأَقْصِرِ الْخُطْبَةَ، وَعَجِّلِ الصَّلَاةَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: صَدَقَ.
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر (رض) عرفہ کے دن جس وقت سورج ڈھل گیا حجاج بن یوسف کے پاس آئے، اور میں ان کے ساتھ تھا۔ اور کہا : اگر سنت کی پیروی چاہتے ہیں تو آؤ چلیں۔ تو حجاج نے کہا : اسی وقت، انہوں نے کہا : ہاں (اسی وقت) ، سالم کہتے ہیں : میں نے حجاج سے کہا : اگر آپ آج سنت کو پانا چاہتے ہیں تو خطبہ مختصر دیں، اور نماز جلدی پڑھیں، اس پر عبداللہ بن عمر (رض) نے کہا : اس نے سچ کہا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٠٠٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3009