أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ مَسِيرِ النَّبِيِّ (ﷺ) فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، قَالَ: كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ.
اسامہ بن زید رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ کی چال کے بارے میں پوچھا گیا (کہ آپ کیسے چل رہے تھے) تو انہوں نے کہا : آپ عنق (تیز چال) چل رہے تھے، اور جب خالی جگہ پاتے تو نص کی رفتار چلتے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٩٣ (١٦٦٦) ، الجہاد ١٣٦ (٢٩٩٩) ، المغازي ٧٧ (٤٤١٣) ، صحیح مسلم/الحج ٤٧ (١٢٤٦) ، سنن ابی داود/الحج ٦٤ (١٩٢٣) ، سنن ابن ماجہ/الحج ٥٨ (٣٠١٧) ، (تحفة الأشراف : ١٠٤) ، موطا امام مالک/الحج ٥٧ (١٧٦) ، مسند احمد (٥/٢٠٥، ٢١٠) ، سنن الدارمی/المناسک ٥١ (١٩٢٢) ، ویأتی عند المؤلف برقم : ٣٠٥٤ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: نص عنق سے بھی تیز چال کو کہتے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3023