أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) يُسْأَلُ أَيَّامَ مِنًى فَيَقُولُ: لَا حَرَجَفَسَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ ؟ قَالَ: لَا حَرَجَفَقَالَ رَجُلٌ: رَمَيْتُ بَعْدَ مَا أَمْسَيْتُ، قَالَ: لَا حَرَجَ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ منیٰ کے ایام میں رسول اللہ ﷺ سے (حج کے مسائل) پوچھے جاتے تو آپ فرماتے کوئی حرج نہیں ، ایک شخص نے آپ سے پوچھا : میں نے قربانی کرنے سے پہلے ہی سر منڈا لیا ؟ آپ نے فرمایا : کوئی حرج نہیں ، اور ایک دوسرے شخص نے کہا : شام ہوجانے کے بعد میں نے کنکریاں ماریں ؟ آپ نے فرمایا : کوئی حرج نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العلم ٢٤ (٨٤) ، الحج ١٢٥ (١٧٢٣) ، ١٣٠ (١٧٣٥) ، الأیمان ١٥ (٦٦٦٦) ، سنن ابی داود/الحج ٧٩ (١٩٨٣) ، سنن ابن ماجہ/الحج ٧٤ (٣٠٥٠) ، (تحفة الأشراف : ٦٠٤٧) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الحج ٥٧ (١٣٠٧) ، مسند احمد (١/٢١٦، ٢٥٨، ٢٦٩، ٢٩١، ٣٠٠، ٣١١، ٣٢٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3067