أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْجِهَادِ فَقَالَ: أَحَيٌّ وَالِدَاكَ ؟قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس جہاد میں شرکت کی اجازت لینے کے لیے آیا۔ آپ نے اس سے پوچھا : کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں ؟ اس نے کہا : جی ہاں، تو آپ نے فرمایا : پھر تو تم انہیں دونوں کی خدمت کا ثواب حاصل کرو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجہاد ١٣٨ (٣٠٠٤) ، الأدب ٣ (٥٩٧٢) ، صحیح مسلم/البر ١ (٢٥٤٩) ، سنن ابی داود/الجہاد ٣٣ (٢٥٢٩) ، سنن الترمذی/الجہاد ٢ (١٦٧١) ، (تحفة الأشراف : ٨٦٣٤) ، مسند احمد (٢/١٦٥، ١٧٢، ١٨٨، ١٩٧، ٢٢١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی ان دونوں کی خدمت کر کے ان کی رضا مندی اور خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرو تمہارے لیے یہی جہاد ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3103