أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ عِنْدَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ عُثْمَانُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) عَلَى فِتْيَةٍ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: فَلَمْ أَفْهَمْ فِتْيَةً كَمَا أَرَدْتُ فَقَالَ: مَنْ كَانَ مِنْكُمْ ذَا طَوْلٍ، فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَا، فَالصَّوْمُ لَهُ وِجَاءٌ.
علقمہ کہتے ہیں کہ میں ابن مسعود (رض) کے ساتھ تھا اور وہ عثمان (رض) عنہ کے پاس تھے تو عثمان (رض) عنہ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نوجوانوں (کی ایک ٹولی) کے پاس پہنچے اور (ان سے) کہا : جو تم میں مالدار ہو ١ ؎ تو اسے چاہیئے کہ وہ شادی کرلے کیونکہ اس سے نگاہ نیچی رکھنے میں زیادہ مدد ملتی ہے ٢ ؎، اور نکاح کرلینے سے شرمگاہ کی زیادہ حفاظت ہوتی ہے ٣ ؎، اور جو مالدار نہ ہو بیوی کے کھانے پینے کا خرچہ نہ اٹھا سکتا ہو تو وہ روزے رکھے کیونکہ اس کے لیے روزہ شہوت کا توڑ ہے ٤ ؎، (اس حدیث میں فتی ۃ کا لفظ آیا ہے، اس کے متعلق) ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : اس کا مفہوم جیسا میں سمجھنا چاہتا تھا سمجھ نہ سکا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٢٤٥ (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎: یعنی مہر اور نان و نفقہ دینے کی طاقت رکھتا ہو۔ ٢ ؎: یعنی پرائی عورت کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنے کی حاجت نہیں رہتی۔ ٣ ؎: زنا و بدکاری میں مبتلا ہونے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔ ٤ ؎: اس سے شہوانیت دبتی اور کمزور ہوجاتی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3206