أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخَلَنْجِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نَافِعٍ الْمَازِنِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَسَنُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنِ التَّبَتُّلِ فَمَا تَرَيْنَ فِيهِ ؟ قَالَتْ: فَلَا تَفْعَلْ أَمَا سَمِعْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلا مِنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً سورة الرعد آية 38، فَلَا تَتَبَتَّلْ.
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور کہا : میں مجرد (غیر شادی شدہ) رہنے کے سلسلے میں آپ کی رائے جاننا چاہتا ہوں تو انہوں نے کہا : ایسا ہرگز نہ کرنا، کیا تم نے نہیں سنا ہے ؟ اللہ عزوجل فرماتا ہے : ولقد أرسلنا رسلا من قبلک وجعلنا لهم أزواجا وذرية ہم آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیجے اور ہم نے ان سب کو بیوی بچوں والا بنایا تھا (الرعد : ٣٨) تو (اے سعد ! ) تم تبتل (اور رہبانیت) اختیار نہ کرو۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٢١٥ (صحیح) (اگر حسن بصری نے اس کو سعدبن ہشام سے سنا ہے تو یہ صحیح ہے ) وضاحت : ١ ؎: آیت میں أَزْوَاجًا سے رہبانیت اور ذُرِّيَّةًً سے خاندانی منصوبہ بندی کی تر دید ہوتی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح إن کان الحسن سمعه من سعد موقوف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3216