أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: خَطَبْتُ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، فَقَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): أَنَظَرْتَ إِلَيْهَا ؟قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا.
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک عورت کو شادی کا پیغام دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تم نے اسے دیکھ لیا ہے ؟ میں نے کہا : نہیں، آپ نے فرمایا : دیکھ لو، کیونکہ دیکھ لینا دونوں میں محبت کے اضافہ کا باعث ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/النکاح ٥ (١٠٨٧) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٩ (١٨٦٦) ، (تحفة الأشراف : ١١٤٨٩) ، مسند احمد (٤/٢٤٥، ٢٤٦) ، سنن الدارمی/النکاح ٥ (٢٢١٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: گویا بغرض نکاح کسی اجنبیہ عورت کو دیکھنا جائز ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3235