أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ بَعْضَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ (ﷺ) اغْتَسَلَتْ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَتَوَضَّأَ النَّبِيُّ (ﷺ) بِفَضْلِهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی ایک بیوی نے غسل جنابت کیا، تو آپ ﷺ نے اس کے بچے ہوئے پانی سے وضو کیا، اس نے آپ ﷺ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطھارة ٣٥ (٦٨) ، سنن الترمذی/فیہ ٤٨ (٦٥) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٣٣ (٣٧٠) ، (تحفة الأشراف ٦١٠٣) ، مسند احمد ١/٢٣٥، ٢٨٤، ٣٠٨، ٣٣٧، سنن الدارمی/الطہارة ٥٧(٧٦١، ٧٦٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی جو پانی جنبی یا محدث کے استعمال سے بچ جائے، وہ استعمال کرنے والے کی جنابت یا حدث کی وجہ سے نجس نہیں ہوتا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 325