أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، قَالَ: لَا تُنْكَحُ الثَّيِّبُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ، وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ إِذْنُهَا ؟ قَالَ: إِذْنُهَا أَنْ تَسْكُتَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بیوہ عورت کی شادی اس کی اجازت کے بغیر نہ کی جائے اور نہ ہی کنواری کی شادی اس کی مرضی جانے بغیر کی جائے ، لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس کی اجازت کیسے جانی جائے ؟ ١ ؎ آپ ﷺ نے فرمایا : اس کی اجازت یہ ہے کہ وہ چپ رہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٥٤٣٣) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ١١ (١٨٧١) ، مسند احمد (٢/٢٢٩، ٢٥٠، ٢٧٩، ٤٢٥، ٤٣٤) ، سنن الدارمی/النکاح ١٣ (٢٢٣٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: وہ تو ایسے مواقع پر بہت شرماتی ہے بول نہیں پاتی ہے۔ ٢ ؎: یعنی وہ چپ رہتی ہے تو سمجھ لو کہ وہ اس رشتہ پر راضی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3265