أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّجُدَامَةَ بِنْتَ وَهْبٍ حَدَّثَتْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، قَالَ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ، حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّ فَارِسَ، وَالرُّومَ يَصْنَعُهُ، وَقَالَ إِسْحَاق: يَصْنَعُونَهُ فَلَا يَضُرُّ أَوْلَادَهُمْ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ جدامہ بنت وہب نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرا ارادہ ہوا کہ غیلہ سے روک دوں پھر مجھے خیال ہوا کہ روم و فارس کے لوگ بھی غیلہ کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا ۔ اسحاق (راوی) کی روایت میں یصنعہ کی جگہ یصنعونہ ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/النکاح ٢٤ (١٤٤٢) ، سنن ابی داود/الطب ١٦ (٣٨٨٢) ، سنن الترمذی/الطب ٢٧ (٢٠٧٦) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٦ (٢٠١١) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٨٦) ، موطا امام مالک/الرضاع ٣ (١٦) ، مسند احمد (٦/٣٦١، ٤٣٤) ، سنن الدارمی/النکاح ٣٣ (٢٢٦٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: غیلہ یعنی دودھ پلانے والی عورت سے جماع کرنا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3326