أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْفَيْضِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُرَّةَ الزُّرَقِيَّ، عَنْأَبِي سَعِيدٍ الزُّرَقِيِّ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي تُرْضِعُ وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ، فَقَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): إِنَّ مَا قَدْ قُدِّرَ فِي الرَّحِمِ سَيَكُونُ.
ابوسعید زرقی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے عزل کے بارے میں پوچھا، اس نے کہا : میری بیوی دودھ پلاتی ہے، اور میں ناپسند کرتا ہوں کہ وہ حاملہ ہو تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : رحم میں جس کا آنا مقدر ہوچکا ہے وہ ہو کر رہے گا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٢٠٤٥) ، مسند احمد (٣/٤٥٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: چاہے تم عزل کرو یا نہ کرو اس لیے عزل کر کے بےمزہ ہونا اچھا نہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3328