أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَلِيًّا، قَالَ: تَزَوَّجْتُ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْنِ بِي، قَالَ: أَعْطِهَا شَيْئًا، قُلْتُ: مَا عِنْدِي مِنْ شَيْءٍ، قَالَ: فَأَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ ؟ قُلْتُ: هِيَ عِنْدِي، قَالَ: فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ علی (رض) نے کہا : میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : مجھے ملنے کا موقع عنایت فرمائیے۔ آپ نے فرمایا : اسے کچھ (تحفہ) دو ، میں نے کہا : میرے پاس تو کچھ ہے نہیں، آپ نے فرمایا : تیری حطمی زرہ کہاں ہے ؟ میں نے کہا : یہ تو میرے پاس ہے، آپ نے فرمایا : وہی اسے دے دو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠١٩٩) (حسن صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3375