أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ رُمَيْثَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: أَنَّ نِسَاءَ النَّبِيِّ (ﷺ) كَلَّمْنَهَا أَنْ تُكَلِّمَ النَّبِيَّ (ﷺ)، أَنَّ النَّاسَ كَانُوا يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ، وَتَقُولُ لَهُ: إِنَّا نُحِبُّ الْخَيْرَ كَمَا تُحِبُّ عَائِشَةَ. فَكَلَّمَتْهُ، فَلَمْ يُجِبْهَا، فَلَمَّا دَارَ عَلَيْهَا كَلَّمَتْهُ أَيْضًا، فَلَمْ يُجِبْهَا، وَقُلْنَ: مَا رَدَّ عَلَيْكِ ؟ قَالَتْ: لَمْ يُجِبْنِي. قُلْنَ: لَا تَدَعِيهِ حَتَّى يَرُدَّ عَلَيْكِ أَوْ تَنْظُرِينَ مَا يَقُولُ. فَلَمَّا: دَارَ عَلَيْهَا، كَلَّمَتْهُ، فَقَالَ: لَا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ، فَإِنَّهُ لَمْ يَنْزِلْ عَلَيَّ الْوَحْيُ وَأَنَا فِي لِحَافِ امْرَأَةٍ مِنْكُنَّ إِلَّا فِي لِحَافِ عَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَانِ الْحَدِيثَانِ صَحِيحَانِ عَنْ عَبْدَةَ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی بیویوں نے ان سے بات کی کہ وہ نبی اکرم ﷺ سے بات کریں کہ لوگ عائشہ کی باری کے دن ہدیے اور تحفے بھیجتے ہیں اور آپ سے کہیں کہ ہمیں بھی خیر سے اسی طرح محبت ہے جیسے آپ کو عائشہ سے ہے، چناچہ انہوں نے آپ سے گفتگو کی لیکن آپ نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا، جب ان کی باری کا دن آیا تو انہوں نے پھر بات کی، آپ نے انہیں جواب نہیں دیا۔ انہوں (بیویوں) نے کہا : آپ ﷺ نے تمہیں کوئی جواب دیا ؟ وہ بولیں : کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے کہا : تم چھوڑنا مت، جب تک کوئی جواب نہ دے دیں۔ (یا یوں کہا :) جب تک تم دیکھ نہ لو کہ آپ کیا جواب دیتے ہیں۔ جب پھر ان کی باری آئی تو انہوں نے آپ سے گفتگو کی، آپ ﷺ نے فرمایا : عائشہ کے تعلق سے مجھے اذیت نہ دو ، اس لیے کہ عائشہ کے لحاف کے علاوہ تم میں سے کسی عورت کے لحاف میں ہوتے ہوئے میرے پاس وحی نہیں آئی ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : عبدہ سے مروی یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٨٢٥٨) ، مسند احمد (٦/٢٩٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3950