أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ (ﷺ) قَالَ لَهَا: إِنَّ جِبْرِيلَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ. قَالَتْ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ، وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، تَرَى مَا لَا نَرَى.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہے ہیں ، انہوں نے کہا :وعلیکم السلام ورحم ۃ اللہ وبرکاتہ (جبرائیل کو عائشہ نے سلام کا جواب دیا اور کہا :) آپ تو وہ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھتے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٦٦٧١) ، مسند احمد (٦/١٥٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی آپ جبرائیل کو دیکھ رہے ہیں اور ان کی باتیں سن رہے ہیں حالانکہ ہم نہیں دیکھ رہے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3953