أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: الْتَمَسْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، فَأَدْخَلْتُ يَدِي فِي شَعْرِهِ، فَقَالَ: قَدْ جَاءَكِ شَيْطَانُكِ. فَقُلْتُ: أَمَا لَكَ شَيْطَانٌ ؟ فَقَالَ: بَلَى، وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ، فَأَسْلَمَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی تفتیش کر رہی تھی چناچہ میں نے اپنا ہاتھ آپ کے بالوں میں داخل کیا تو آپ نے فرمایا : تمہارے پاس تمہارا شیطان آگیا ہے ۔ میں نے عرض کیا : کیا آپ کا شیطان نہیں ہے ؟ آپ نے فرمایا : کیوں نہیں، اللہ کی قسم، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے محفوظ رکھا ہے لہٰذا میں اس سے محفوظ رہتا ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٦١٨٤) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3960