أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ مَحْمُودَ بْنَ لَبِيدٍ، قَالَ: أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثَ تَطْلِيقَاتٍ جَمِيعًا، فَقَامَ غَضْبَانًا، ثُمَّ قَالَ: أَيُلْعَبُ بِكِتَابِ اللَّهِ، وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ، حَتَّى قَامَ رَجُلٌ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَقْتُلُهُ ؟.
محمود بن لبید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک شخص کے بارے میں بتایا گیا کہ اس نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دے دی ہیں، (یہ سن کر) آپ غصے سے کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے : میرے تمہارے درمیان موجود ہوتے ہوئے بھی تم اللہ کی کتاب (قرآن) کے ساتھ کھلواڑ کرنے لگے ہو ١ ؎، (آپ کا غصہ دیکھ کر اور آپ کی بات سن کر) ایک شخص کھڑا ہوگیا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیوں نہ میں اسے قتل کر دوں ؟۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١١٢٣٧) (ضعیف) (سند میں مخرمہ کا اپنے والد سے سماع نہیں ہے ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اللہ کا حکم کیا ہے اسے نہیں دیکھتے ؟ میں تمہارے درمیان موجود ہوں مجھ سے نہیں پوچھتے اور سمجھتے ؟ اللہ کے فرمان کے خلاف عمل کرنے لگے ہو کیا اب یہی ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3401