أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَحْمَسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ، قَالَتْ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ (ﷺ)، فَقُلْتُ: أَنَا بِنْتُ آلِ خَالِدٍ، وَإِنَّ زَوْجِي فُلَانًا، أَرْسَلَ إِلَيَّ بِطَلَاقِي، وَإِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَهُ النَّفَقَةَ وَالسُّكْنَى فَأَبَوْا عَلَيَّ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ قَدْ أَرْسَلَ إِلَيْهَا بِثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): إِنَّمَا النَّفَقَةُ، وَالسُّكْنَى لِلْمَرْأَةِ، إِذَا كَانَ لِزَوْجِهَا عَلَيْهَا الرَّجْعَةُ.
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور آپ سے کہا : میں آل خالد کی بیٹی ہوں اور میرے شوہر فلاں نے مجھے طلاق کہلا بھیجی ہے، میں نے ان کے گھر والوں سے نفقہ و سکنی (اخراجات اور رہائش) کا مطالبہ کیا تو انہوں نے مجھے دینے سے انکار کیا، ان لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ان کے شوہر نے انہیں تین طلاقیں دے بھیجی ہیں، وہ کہتی ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نفقہ و سکنی اس عورت کو ملتا ہے جس کے شوہر کو اس سے رجوع کا حق حاصل ہوتا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطلاق ٦ (١٤٨٠) ، سنن الترمذی/الطلاق ٥ (١١٨٠) ، سنن ابی داود/الطلاق ٤٠ (٢٢٩١) ، سنن ابن ماجہ/الطلاق ١٠ (٣٠٣٦) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠٢٥) ، ویأتي بأرقام ٣٥٧٧، ٣٥٧٨، ٣٥٧٩ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اور تین طلاق کے بعد رجوع نہیں کرسکتا اس لیے عورت کو نفقہ و سکنیٰ بھی نہیں ملے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3403