أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنِ الَّتِي اسْتَعَاذَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ الْكِلَابِيَّةَ لَمَّا دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ (ﷺ)، قَالَتْ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): لَقَدْ عُذْتِ بِعَظِيمٍ الْحَقِي بِأَهْلِكِ.
اوزاعی کہتے ہیں کہ میں نے زہری سے اس عورت کے متعلق سوال کیا جس نے رسول اللہ ﷺ سے (بچنے کے لیے، اللہ کی) پناہ مانگی تھی تو انہوں نے کہا : عروہ نے مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایت بیان کی ہے کہ کلابیہ (فاطمہ بنت ضحاک بن سفیان) جب (منکوحہ کی حیثیت سے) نبی اکرم ﷺ کے سامنے آئی اور (اپنی سادہ لوحی سے دوسری ازواج کے سکھا پڑھا دینے کے باعث آپ ﷺ کو دیکھتے ہی) کہہ بیٹھی أعوذباللہ منک میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے (فوراً ) کہا تم نے تو بہت بڑی ذات گرامی کی پناہ مانگ لی ہے، جاؤ اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ (یہ کہہ کر گویا آپ ﷺ نے اسے طلاق دے دی) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطلاق ٣ (٥٢٥٤) ، سنن ابن ماجہ/الطلاق ١٨ (٢٠٥٠) ، تحفة الأشراف : ١٦٥١٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3417