أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ فِي حَدِيثِهِ: إِذَا رَسُولٌ مِنَ النَّبِيِّ (ﷺ) قَدْ أَتَانِي، فَقَالَ: اعْتَزِلِ امْرَأَتَكَ، فَقُلْتُ: أُطَلِّقُهَا ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ لَا تَقْرَبْهَا، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ، الْحَقِي بِأَهْلِكِ.
عبدالرحمٰن بن کعب اپنے والد کعب بن مالک رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے واقعے کے ذکر میں بتایا : اچانک رسول اللہ ﷺ کا ایک قاصد میرے پاس آیا اور کہا تم اپنی بیوی سے جدا ہوجاؤ، میں نے اس سے کہا : میں اسے طلاق دے دوں، اس نے کہا نہیں، طلاق نہ دو ، لیکن اس کے قریب بھی نہ جاؤ۔ اس حدیث میں انہوں نے الحقی باھلک کا ذکر نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١١١٥٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3426