أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْإِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) قَالَ: رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّغِيرِ حَتَّى يَكْبُرَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ أَوْ يُفِيقَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تین طرح کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے ١ ؎ ایک تو سونے والے سے یہاں تک کہ وہ جاگے ٢ ؎، دوسرے نابالغ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہوجائے، تیسرے دیوانے سے یہاں تک کہ وہ عقل و ہوش میں آجائے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحدود ١٦ (٤٣٩٨) ، سنن ابن ماجہ/الطلاق ١٥ (٢٠٤١) ، (تحفة الأشراف : ١٥٩٣٥) ، مسند احمد (٦/١٠٠، ١٠١، ١٤٤) ، سنن الدارمی/الحدود ١ (٢٣٤٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ ان حالات میں ان پر گناہ کا حکم نہیں لگتا۔ ٢ ؎: یعنی سونے کی حالت میں جو کچھ کہہ دے اس کا اعتبار نہ ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3432