أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مَوْهَبٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: كَانَلِعَائِشَةَ غُلَامٌ وَجَارِيَةٌ، قَالَتْ: فَأَرَدْتُ أَنْ أُعْتِقَهُمَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، فَقَالَ: ابْدَئِي بِالْغُلَامِ قَبْلَ الْجَارِيَةِ.
قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک غلام اور ایک لونڈی تھی (یہ دونوں میاں بیوی تھے) میرا ارادہ ہوا کہ ان دونوں کو میں آزاد کر دوں۔ میں نے اس ارادہ کا اظہار رسول اللہ ﷺ سے کردیا تو آپ نے فرمایا : لونڈی سے پہلے غلام کو آزاد کرو (پھر لونڈی کو) ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطلاق ٢٢ (٢٢٣٧) ، سنن ابن ماجہ/العتق ١٠ (٢٥٣٢) (تحفة الأشراف : ١٧٥٣٤) (ضعیف) (اس کے راوی عبدالرحمن بن موہب ضعیف ہیں ) وضاحت : ١ ؎: غالباً ایسا عورت کے مقابلے میں مرد کی بزرگی و بڑائی کے باعث کہا گیا۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3446