أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: آلَى النَّبِيُّ (ﷺ) مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا فِي مَشْرَبَةٍ لَهُ، فَمَكَثَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، ثُمَّ نَزَلَ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَيْسَ آلَيْتَ عَلَى شَهْرٍ ؟ قَالَ: الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی بیویوں کے پاس ایک مہینے تک نہ جانے کا عہد کیا (یعنی ایلاء کیا) اور انتیس ( ٢٩) راتیں اپنے بالاخانے پر رہے پھر آپ ﷺ اتر آئے، آپ سے کہا گیا : اللہ کے رسول ! کیا آپ نے مہینہ بھر کا ایلاء نہیں کیا تھا ؟ آپ نے فرمایا : مہینہ انتیس ( ٢٩) دن کا (بھی) ہوا کرتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٦٤٣) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الصلاة ١٨ (٣٧٨) ، المظالم ٢٥ (٢٤٦٩) ، النکاح ٩١ (٥٢٠١) ، الطلاق ٢١ (٥٢٨٩) ، الأیمان والنذور ٢٠ (٦٦٨٤) ، سنن الترمذی/الصوم ٦ (٦٨٩، ٦٩٠) ، مسند احمد (٣/٢٠٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3456