أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قالت: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ (ﷺ): إِنَّهَا مُسْتَحَاضَةٌ، فَقَالَ: تَجْلِسُ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ، وَتُؤَخِّرُ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلُ الْعَصْرَ وَتَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي، وَتُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلُ الْعِشَاءَ وَتَغْتَسِلُ وَتُصَلِّيهِمَا جَمِيعًا، وَتَغْتَسِلُ لِلْفَجْرِ.
زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا : میں مستحاضہ ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا : اپنے حیض کے دنوں میں بیٹھ جاؤ (نماز نہ پڑھو) پھر غسل کرو، اور ظہر کو مؤخر کرو، اور عصر میں جلدی کرو، اور غسل کرو، اور نماز پڑھو، اور مغرب کو مؤخر کرو، اور عشاء کو جلدی کرو، اور غسل کر کے (دونوں کو ایک ساتھ) پڑھو، اور فجر کے لیے (الگ ایک) غسل کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف ١٥٨٨١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 361