أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَعْضُ آلِ سَعْدٍ، قَالَ: مَرِضَ سَعْدٌ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ)، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ ؟ قَالَ: لَا، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
سعد بن ابراہیم کہتے ہیں کہ آل سعد میں سے ایک شخص نے مجھ سے بیان کیا کہ سعد بیمار ہوئے تو رسول اللہ ﷺ ان کی عیادت کے لیے ان کے پاس تشریف لائے، تو انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! میں اپنے سارے مال کی (اللہ کی راہ میں دینے) وصیت کر دوں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں ، اور انہوں نے پوری حدیث بیان کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٣٩٥٠) ، (حم ١/٧٢) (صحیح ) صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3629