أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) فِي مَرَضِي، فَقَالَ: أَوْصَيْتَ ؟قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: بِكَمْ قُلْتُ ؟بِمَالِي كُلِّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: فَمَا تَرَكْتَ لِوَلَدِكَ ؟قُلْتُ: هُمْ أَغْنِيَاءُ، قَالَ: أَوْصِ بِالْعُشْرِ، فَمَا زَالَ يَقُولُ: وَأَقُولُ: حَتَّى قَالَ: أَوْصِ بِالثُّلُثِ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ أَوْ كَبِيرٌ.
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میری بیماری میں رسول اللہ ﷺ میرے پاس بیمار پرسی کرنے آئے۔ آپ نے فرمایا : تم نے وصیت کردی ؟ میں نے کہا : جی ہاں کردی، آپ نے فرمایا : کتنی ؟ میں نے کہا : اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں دے دیا ہے۔ آپ نے پوچھا : اپنی اولاد کیلئے کیا چھوڑا ؟ میں نے کہا : وہ سب مالدار و بےنیاز ہیں، آپ نے فرمایا : دسویں حصے کی وصیت کرو ، پھر برابر آپ یہی کہتے رہے اور میں بھی کہتا رہا ١ ؎ آپ نے فرمایا : اچھا تہائی کی وصیت کرلو، اگرچہ ایک تہائی بھی زیادہ یا بڑا حصہ ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الجنائز ٦ (٩٧٥) ، (تحفة الأشراف : ٣٨٩٨) ، مسند احمد (١/١٧٤) (ضعیف) (مولف کی یہ سند عطاء بن سائب کی وجہ سے ضعیف ہے، مگر پچھلی سند صحیح ہے ) وضاحت : ١ ؎: یعنی میں نے کل مال میں سے دو تہائی کہا، آپ نے فرمایا : نہیں ، میں نے آدھا کہا، آپ نے فرمایا : نہیں ، میں نے کہا : تہائی ؟ قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3631