أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَن ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ سَعْدًا سَأَلَ النَّبِيَّ (ﷺ): إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَلَمْ تُوصِ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا ؟ قَالَ: نَعَمْ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ سعد (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا : میری ماں مرچکی ہیں اور کوئی وصیت نہیں کی ہیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں کر دو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوصایا ٢٠ (٢٧٧٠) ، سنن ابی داود/الوصایا ١٥ (٢٨٨٢ مطولا) ، سنن الترمذی/الزکاة ٣٣ (٦٦٩ مطولا) ، (تحفة الأشراف : ٦١٦٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اگر میں ان کی جانب سے صدقہ کروں تو کیا اس صدقہ کا ثواب انہیں ملے گا ؟ ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3654