أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟، قَالَ: سَقْيُ الْمَاءِ.
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! میری ماں مرگئیں ہیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کرسکتا ہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں ، میں نے پوچھا : کون سا صدقہ افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا : (پیاسوں کو) پانی پلانا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الزکاة ٤١ (١٦٨٠) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٨ (٣٦٨٤) ، (تحفة الأشراف : ٣٨٣٤) ، مسند احمد (٥/٢٨٤، ٢٨٥ و ٦/٧) ، ویأتي فیما یلي : ٣٦٩٥، ٣٦٩٦ (حسن ) وضاحت : ١ ؎: نل لگوا دینا، کنواں، تالاب وغیرہ کھودوانا جس سے لوگ سیراب ہوں یہ بہترین صدقہ ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3664