أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، وَقَبِيصَةُ، قَالَا: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْنَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: مَرَّ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ (ﷺ) وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرا، آپ ﷺ پیشاب کر رہے تھے، تو اس نے آپ کو سلام کیا مگر آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحیض ٢٨ (٣٧٠) ، سنن ابی داود/الطہارة ٨ (١٦) ، سنن الترمذی/فیہ ٦٧ (٩٠) ، الاستئذان ٢٧ (٢٧٢٠) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٢٧ (٣٥٣) ، (تحفة الأشراف : ٧٦٩٦) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎: سلام کا جواب نہیں دیا کا مطلب ہے فوری طور پر جواب نہیں دیا بلکہ وضو کرنے کے بعد دیا، جیسا کہ اگلی روایت میں آ رہا ہے، نیز یہ بھی احتمال ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے بطور تادیب سرے سے سلام کا جواب ہی نہ دیا ہو۔ قال الألباني :(صحيح دون قوله : فإن عامة الوسواس منه ۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 37