أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ ابْنِ عَيَّاشٍ وَهُوَ أَبُو بَكْرٍ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ سَعِيدٍ، ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا، حَدَّثَنَا جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ، قال: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ مَعَ أُمِّي وَخَالَتِي، فَسَأَلَتَاهَا كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) يَصْنَعُ إِذَا حَاضَتْ إِحْدَاكُنَّ ؟ قَالَتْ: كَانَيَأْمُرُنَا إِذَا حَاضَتْ إِحْدَانَا، أَنْ تَتَّزِرَ بِإِزَارٍ وَاسِعٍ ثُمَّ يَلْتَزِمُ صَدْرَهَا وَثَدْيَيْهَا.
جمیع بن عمیر کہتے ہیں : میں اپنی ماں اور خالہ کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، تو ان دونوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : جب آپ میں سے کوئی حائضہ ہوجاتی تو رسول اللہ ﷺ کیسے کرتے تھے ؟ کہا : جب ہم میں سے کوئی حائضہ ہوجاتی تو آپ ہمیں کشادہ تہبند باندھنے کا حکم دیتے، پھر آپ اس کے سینہ اور چھاتی سے چمٹتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي و انظرماقبلہ، (تحفة الأشراف ١٦٠٥٥) ، مسند احمد ٦/١٢٣ (منکر) (اس کے راوی ” صدقہ “ لین الحدیث ہیں، اور ” جمیع “ سے روایت میں غلطی ہوجایا کرتی تھی، لیکن پچھلی حدیث سے اس کا معنی ثابت ہے ) قال الشيخ الألباني : منكر صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 375