أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): أَمْسِكْ عَلَيْكَ مَالَكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ. قُلْتُ: فَإِنِّي أُمْسِكُ عَلَيَّ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ.
کعب بن مالک (رض) اپنا اس وقت کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے۔ (کہتے ہیں :) میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کو صدقہ کر کے اپنے مال سے الگ ہوجاؤں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم اپنا (کچھ) مال اپنے لیے روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا ، میں نے عرض کیا : تو میں اپنے پاس اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو خیبر میں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٨٥٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3825