أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، قالت: كَانَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ لَا تَذْكُرُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) إِلَّا قَالَتْ: بِأَبِي، فَقُلْتُ: أَسَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، يَقُولُ: كَذَا وَكَذَا ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، بِأَبِي، قَالَ: لِتَخْرُجْ الْعَوَاتِقُ وَذَوَاتُ الْخُدُورِ وَالْحُيَّضُ، فَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ، وَتَعْتَزِلِ الْحُيَّضُ الْمُصَلَّى.
حفصہ (حفصہ بنت سیرین) کہتی ہیں کہ ام عطیہ جب بھی رسول اللہ ﷺ کا ذکر کرتیں تو کہتیں : میرے والد آپ پر قربان ہوں، تو میں نے پوچھا : کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا ایسا فرماتے سنا ہے، انہوں نے کہا : ہاں، میرے والد آپ پر قربان ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا ہے : بالغ لڑکیاں، پردے والیاں، اور حائضہ عورتیں نکلیں، اور خطبہ اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں، البتہ حائضہ عورتیں نماز پڑھنے کی جگہ سے الگ رہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحیض ٢٣ (٣٢٤) ، والصلاة ٢ (٣٥١) ، والعیدین ١٥ (٩٧١) ، ٢٠ (٩٨٠) ، ٢١ (٩٨١) ، والحج ٨١ (١٦٥٢) ، (تحفة الأشراف ١٨١١٨) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/العیدین ١ (٨٩٠) ، سنن ابی داود/الصلاة ٢٤٧ (١١٣٦) ، سنن الترمذی/فیہ ٢٧١ (٥٣٩) ، سنن ابن ماجہ/إقامة ١٦٥ (١٣٠٨) ، مسند احمد ٥/٨٤، ٨٥، ویأتي عند المؤلف في العیدین ٢ (برقم ١٥٥٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 390