أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ (ﷺ) عَلَى أَرْضِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَدْ عَرَفَ أَنَّهُ مُحْتَاجٌ، فَقَالَ: لِمَنْ هَذِهِ الْأَرْضُ ؟. قَالَ: لِفُلَانٍ، أَعْطَانِيهَا بِالْأَجْرِ. فَقَالَ: لَوْ مَنَحَهَا أَخَاهُ. فَأَتَى رَافِعٌ الْأَنْصَارَ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) نَهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَكُمْ نَافِعًا، وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) أَنْفَعُ لَكُمْ.
رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ انصار کے ایک آدمی کی زمین کے پاس سے گزرے جسے آپ جانتے تھے کہ وہ ضرورت مند ہے، پھر فرمایا : یہ زمین کس کی ہے ؟ اس نے کہا : فلاں کی ہے، اس نے مجھے کرائے پر دی ہے، آپ نے فرمایا : اگر اس نے اسے اپنے بھائی کو عطیہ کے طور پردے دی ہوتی (تو اچھا ہوتا) ، تب رافع بن خدیج (رض) نے انصار کے پاس آ کر کہا بولے : رسول اللہ ﷺ نے تمہیں ایک ایسی چیز سے روکا ہے جو تمہارے لیے نفع بخش تھی، لیکن رسول اللہ ﷺ کی اطاعت تمہارے لیے سب سے زیادہ مفید اور نفع بخش ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٨٩٩ (صحیح) (سند میں راوی ” ابراہیم “ کا حافظہ کمزور تھا، اور سند میں انقطاع بھی ہے، لیکن متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3869