أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ (ﷺ) نَفَرٌ مِنْ عُكْلٍ أَوْ عُرَيْنَةَفَأَمَرَ لَهُمْ وَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ بِذَوْدٍ أَوْ لِقَاحٍ يَشْرَبُونَ أَلْبَانَهَا وَأَبْوَالَهَا، فَقَتَلُوا الرَّاعِيَ، وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ، فَبَعَثَ فِي طَلَبِهِمْ، فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ.
انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس قبیلہ عکل یا عرینہ کے چند آدمی آئے، انہیں جب مدینے کی آب و ہوا راس نہیں آئی تو آپ ﷺ نے اونٹوں کا یا دودھ والی اونٹنیوں کا دودھ اور پیشاب پینے کا حکم دیا، تو انہوں نے چرواہے کو قتل کیا اور اونٹ ہانک لے گئے۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کی تلاش میں کچھ لوگوں کو روانہ کیا اور ان کے ہاتھ پیر کاٹ دیے، اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٠٢٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4027