أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَذَكَرَ آخَرَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ قَالَ: أَغَارَ نَاسٌ مِنْ عُرَيْنَةَ عَلَى لِقَاحِ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، وَاسْتَاقُوهَا، وَقَتَلُوا غُلَامًا لَهُ،فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) فِي آثَارِهِمْ فَأُخِذُوا فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ.
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی اونٹنیاں لوٹ لیں، انہیں ہانک لے گئے اور آپ کے غلام کو قتل کردیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے پیچھے کچھ لوگ روانہ کیے، وہ سب گرفتار کرلیے گئے، تو آپ نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٠٤٣ (صحیح) (یہ روایت بھی مرسل ہے، اس لیے کہ عروہ نے صحابی کا ذکر نہیں کیا، لیکن دوسرے طرق سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4040