حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنِي حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ (ﷺ) بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ، ثُمَّ أَرْسَلَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ بَعْدَ ذَلِكَ، فَلَمَّا قَدِمَ، قَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ إِلَيْكُمْ. فَأَلْقَى لَهُ أَبُو مُوسَى وِسَادَةً لِيَجْلِسَ عَلَيْهَا، فَأُتِيَ بِرَجُلٍ كَانَ يَهُودِيًّا فَأَسْلَمَ ثُمَّ كَفَرَ، فَقَالَ مُعَاذٌ: لَا أَجْلِسُ حَتَّى يُقْتَلَ، قَضَاءُ اللَّهِ وَرَسُولِهِثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا قُتِلَ قَعَدَ.
ابوموسیٰ اشعری (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں یمن بھیجا، پھر اس کے بعد آپ ﷺ نے معاذ بن جبل (رض) کو بھیجا، جب وہ (معاذ) یمن آئے تو کہا : لوگو ! میں تمہارے پاس رسول اللہ ﷺ کا قاصد ہوں، ابوموسیٰ اشعری (رض) نے ان کے لیے گاؤ تکیہ رکھ دیا تاکہ وہ اس پر (ٹیک لگا کر) بیٹھیں، پھر ایک شخص ان کے پاس لایا گیا جو یہودی تھا، وہ اسلام قبول کرلینے کے بعد کافر ہوگیا تھا، تو معاذ (رض) نے کہا : میں نہیں بیٹھوں گا جب تک اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کی تعمیل کرتے ہوئے اسے قتل نہ کردیا جائے۔ (ایسا) تین بار (کہا) ، پھر جب اسے قتل کردیا گیا تو وہ بیٹھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٩٠٨٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4066