أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُد، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ: مَرَرْتُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ مُتَغَيِّظٌ عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقُلْتُ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ، مَنْ هَذَا الَّذِي تَغَيَّظُ عَلَيْهِ ؟ قَالَ: وَلِمَ تَسْأَلُ ؟ قُلْتُ: أَضْرِبُ عُنُقَهُ. قَالَ: فَوَاللَّهِ لَأَذْهَبَ عِظَمُ كَلِمَتِي غَضَبَهُ، ثُمَّ قَالَ: مَا كَانَتْ لِأَحَدٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ (ﷺ).
ابوبرزہ (رض) کہتے ہیں کہ میں ابوبکر (رض) کے پاس سے گزرا، وہ اپنے ساتھیوں میں سے کسی پر غصہ ہو رہے تھے، میں نے کہا : اے رسول اللہ کے خلیفہ ! یہ کون ہے جس پر آپ غصہ ہو رہے ہیں ؟ کہا : آخر تم یہ کیوں پوچھ رہے ہو ؟ میں نے کہا : تاکہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ ابوبرزہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میری اس بات کی سنگینی نے ان کا غصہ ٹھنڈا کردیا، پھر بولے : محمد ﷺ کے بعد کسی کا یہ مقام نہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٠٧٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4073