أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، قال: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): بَيْنَمَا أَيُّوبُ عَلَيْهِ السَّلَام يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ يَحْثِي فِي ثَوْبِهِ، قَالَ: فَنَادَاهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا أَيُّوبُ، أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ، قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ لَا غِنَى بِي عَنْ بَرَكَاتِكَ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایوب (علیہ السلام) ننگے غسل کر رہے تھے ١ ؎ کہ اسی دوران ان کے اوپر سونے کی ٹڈی گری، تو وہ اسے اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے، تو اللہ عزوجل نے انہیں آواز دی : ایوب ! کیا میں نے تمہیں بےنیاز نہیں کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں، کیوں نہیں میرے رب ! لیکن تیری برکتوں سے میں بےنیاز نہیں ہوسکتا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الغسل ٢٠(٢٧٩) تعلیقاً ، والأنبیاء ٢٠(٣٣٩١) ، والتوحید ٣٥ (٧٤٩٣) ، (تحفة الأشراف ١٤٢٢٤) ، مسند احمد ٢/٣١٤ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ غسل انہوں نے ایسی جگہ پر کیا ہوگا جہاں وہ لوگوں کی نگاہوں سے مامون و محفوظ رہے ہوں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 409