أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمِصِّيصِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفٌ عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) قَالَ: إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يُرِيدُ قَتْلَ صَاحِبِهِ، فَهُمَا فِي النَّارِ. قِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ ؟، قَالَ: إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ.
ابوبکرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ آمنے سامنے ہوں، ان میں سے ہر ایک دوسرے کو قتل کرنا چاہتا ہو، تو وہ دونوں جہنم میں ہوں گے ۔ آپ سے عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! یہ تو قاتل ہے لیکن مقتول کا کیا معاملہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : وہ بھی تو اپنے ساتھی کے قتل کا حریص اور خواہشمند تھا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١١٦٦٦) ، مسند احمد ٥/٤٦، ٥١، یأتي فیما یلي : ٤١٢٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4120