أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ. ح وأَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا نُبَايِعُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، ثُمَّ يَقُولُ: فِيمَا اسْتَطَعْتَ. وَقَالَ عَلِيٌّ: فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ سے سمع و طاعت (سننے اور حکم بجا لانے) پر بیعت کرتے تھے، پھر آپ فرماتے تھے : جتنی تمہاری طاقت ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الإمارة ٢٢ (١٨٦٧) ، سنن الترمذی/السیر ٣٤ (١٥٩٣) ، (تحفة الأشراف : ٧١٢٧، ٧١٧٤) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأحکام ٤٣ (٧٢٠٢) ، موطا امام مالک/البیعة ١(١) ، مسند احمد (٢/٦٢، ٨١، ١٠١، ١٣٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: دین اسلام کی طبیعت ہی اللہ تعالیٰ نے یہی رکھی ہے کہ بن دوں پر ان کی طبعی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا ہے۔ قرآن میں ارشاد ربانی ہے : لا يكلف الله نفسا إلا وسعها اللہ تعالیٰ نے کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا ہے (البقرة : 286) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4187