أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آَدَمَ بْنِ سُلَيْمَانِ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنِ النَّبِيَّ (ﷺ)، قَالَ: إنَّكُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَى الإِمارَةِ، وَإنَّهَا سَتَكُونُ نَدَامَةً وَحَسْرَةً، فَنَعِمَتِ المُرْضِعَةُ، وَبَئِسَتِ الْفَاطِمَةُ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عنقریب تم لوگ امارت و سرداری کی خواہش کرو گے لیکن وہ باعث ندامت و حسرت ہوگی، اس لیے کہ دودھ پلانے والی کتنی اچھی ہوتی ہے، اور دودھ چھڑانے والی کتنی بری ہوتی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأحکام ٧ (٧١٤٨) ، (تحفة الأشراف : ١٣٠١٧) ، مسند احمد (٢/٤٤٨، ٤٧٦) ویأتي عند المؤلف في القضاء (برقم ٥٣٨٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی حکومت ملتے وقت وہ بھلی لگتی ہے اور جاتے وقت بری لگتی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4211