أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْنُبَيْشَةَ، قَالَ: نَادَى النَّبِيَّ (ﷺ) رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّا كُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً يَعْنِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي رَجَبٍ فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ: اذْبَحُوهَا فِي أَيِّ شَهْرٍ كَانَ، وَبَرُّوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَطْعِمُوا. قَالَ: إِنَّا كُنَّا نُفْرِعُ فَرَعًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَ: فِي كُلِّ سَائِمَةٍ فَرَعٌ حَتَّى إِذَا اسْتَحْمَلَ ذَبَحْتَهُ وَتَصَدَّقْتَ بِلَحْمِهِ، فَإِنَّ ذَلِكَ هُوَ خَيْرٌ.
نبیشہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کو پکار کر کہا : ہم لوگ عتیرہ ذبح کرتے تھے۔ یعنی زمانہ جاہلیت میں رجب کے مہینے میں، تو اب آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جس مہینہ میں چاہو اسے ذبح کرو، اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور لوگوں کو کھلاؤ، اس نے کہا : ہم لوگ عہد جاہلیت میں فرع ذبح کرتے تھے ؟ آپ نے فرمایا : ہر چرنے والے جانور میں فرع ہے یہاں تک کہ جب وہ مکمل (جانور) ہوجائے تو تم اسے ذبح کرو اور اس کا گوشت صدقہ کرو، یہی چیز بہتر ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٢٣٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4231