أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ (ﷺ) مَرَّ عَلَى شَاةٍ مَيِّتَةٍ مُلْقَاةٍ، فَقَالَ: لِمَنْ هَذِهِ ؟، فَقَالُوا لِمَيْمُونَةَ: فَقَالَ: مَا عَلَيْهَا لَوِ انْتَفَعَتْ بِإِهَابِهَا، قَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ، فَقَالَ: إِنَّمَا حَرَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَكْلَهَا.
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا گزر ایک پڑی ہوئی مردار بکری کے پاس سے ہوا، آپ نے فرمایا : یہ کس کی ہے ؟ لوگوں نے کہا : میمونہ کی۔ آپ نے فرمایا : ان پر کوئی گناہ نہ ہوتا اگر وہ اس کی کھال سے فائدہ اٹھاتیں ، لوگوں نے عرض کیا : وہ مردار ہے۔ تو آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے (صرف) اس کا کھانا حرام کیا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحیض ٢٧ (٣٦٤) ، سنن ابی داود/اللباس ٤١ (٤١٢٠) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٥ (٣٦١٠) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠٦٦) ، مسند احمد (٦/٣٢٩، ٣٣٦) ، ویأتي عند المؤلف برقم : ٤٢٤٢ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اس کے جسم کے دیگر اعضاء مثلاً بال، دانت، سینگ وغیرہ سے استفادہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4234