أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ جَوْنِ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ (ﷺ) فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ دَعَا بِمَاءٍ مِنْ عِنْدِ امْرَأَةٍ، قَالَتْ: مَا عِنْدِي إِلَّا فِي قِرْبَةٍ لِي مَيْتَةٍ، قَالَ: أَلَيْسَ قَدْ دَبَغْتِهَا، قَالَتْ: بَلَى، قَالَ: فَإِنَّ دِبَاغَهَا ذَكَاتُهَا.
سلمہ بن محبق (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے غزوہ تبوک میں ایک عورت کے پاس سے پانی منگوایا۔ اس نے کہا : میرے پاس تو ایک ایسی مشک کا پانی ہے جو مردار کی کھال کی ہے، آپ نے فرمایا : تم نے اسے دباغت نہیں دی تھی ؟ وہ بولی : کیوں نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : اس کی دباغت ہی اس کی پاکی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/اللباس ٤١ (٤١٢٥) ، (تحفة الأشراف : ٤٥٦٠) ، مسند احمد (٣/٤٧٦ و ٥/٦، ٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4243