أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ بِشْرٍ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: قالت عَائِشَةُكُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) فَيَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ ثُمَّ يُصْبِحُ مُحْرِمًا يَنْضَخُ طِيبًا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کو خوشبو لگاتی تھی، پھر آپ اپنی بیویوں کے پاس جاتے ١ ؎ پھر آپ محرم ہو کر صبح کرتے، اور آپ کے جسم سے خوشبو پھوٹتی ہوتی ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤١٧ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس سے کنایہ جماع کی طرف ہے۔ ٢ ؎: باب پر استدلال اس طرح سے ہے کہ آپ ﷺ ہر بیوی سے جماع کے بعد الگ الگ غسل کرتے تو جسم پر خوشبو کا اثر باقی نہ رہتا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 431