أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَنْ حَاضِرُنَا يَوْمَ الْقَاحَةِ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ: أَنَا أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) بِأَرْنَبٍ، فَقَالَ الرَّجُلُ الَّذِي جَاءَ بِهَا: إِنِّي رَأَيْتُهَا تَدْمَى، فَكَانَ النَّبِيُّ (ﷺ) لَمْ يَأْكُلْ، ، ثُمَّ إِنَّهُ قَالَ: كُلُوا، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: وَمَا صَوْمُكَ ؟، قَالَ: مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، قَالَ: فَأَيْنَ أَنْتَ عَنِ الْبِيضِ الْغُرِّ ؟ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ.
عمر (رض) کہتے ہیں کہ قاحہ (مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام) کے دن ہمارے ساتھ کون تھا ؟ ابوذر (رض) بولے : میں، (اس دن) نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک خرگوش لایا گیا تو جو لے کر آیا اس نے کہا : میں نے اسے حیض آتے دیکھا ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے نہیں کھایا پھر فرمایا : تم لوگ کھاؤ، ایک شخص نے کہا : روزہ دار ہوں، آپ نے فرمایا : تمہارا یہ کون سا روزہ ہے ؟ اس نے کہا : ہر ماہ تین دن والا، آپ ﷺ نے فرمایا : تو تم ایام بیض یعنی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں راتوں کے روزے کیوں نہیں رکھتے ؟ ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٤٢٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4311