أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ صُهَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَامِرٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) قَالَ: مَا مِنْ إِنْسَانٍ قَتَلَ عُصْفُورًا فَمَا فَوْقَهَا بِغَيْرِ حَقِّهَا، إِلَّا سَأَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهَا، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا حَقُّهَا ؟، قَالَ: يَذْبَحُهَا فَيَأْكُلُهَا، وَلَا يَقْطَعُ رَأْسَهَا يَرْمِي بِهَا.
عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو بھی انسان کسی گوریا، یا اس سے بھی زیادہ چھوٹی چڑیا کو ناحق قتل کرے گا، اللہ تعالیٰ اس سے اس کے متعلق سوال کرے گا ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! اس کا حق کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : وہ اسے ذبح کرے اور کھائے اور اس کا سر کاٹ کر نہ پھینکے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٨٨٢٩) ، مسند احمد (٢/١٦٦، ١٩٧، ٢١٠) ، سنن الدارمی/الأضاحي ١٦ (٢٠٢١) ، ویأتي عند المؤلف في الضحایا ٤٢ (برقم : ٤٤٥٠) (حسن) (تراجع الالبانی ٤٥٧، صحیح الترغیب والت رہیب ٢٢٦٦ ) وضاحت : ١ ؎: یہ حدیث گرچہ ضعیف ہے، لیکن دیگر دلائل سے گوریا حلال پرندوں میں سے ہے (دیکھئیے پچھلی حدیث) ۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4349